سراپا ناز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - مجسم ناز انداز، نازک مزاج۔ "برسات کی چاندنی جو کسی سراپا ناز کی طرح چھپ چھپ کر اور ترسا ترسا کر جلوہ دکھاتی ہے . کلبۂ احزان کی روشنی کر دیتی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٢٣:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سراپا' کے ساتھ فارسی اسم 'ناز' لگانے سے مرکب 'سراپا ناز' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٢٣ء میں "مضامین شرر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مجسم ناز انداز، نازک مزاج۔ "برسات کی چاندنی جو کسی سراپا ناز کی طرح چھپ چھپ کر اور ترسا ترسا کر جلوہ دکھاتی ہے . کلبۂ احزان کی روشنی کر دیتی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر، ٢٣:١ )